Re: Mufti Muneeb’s Fatwa on tafdil al shaykhayn

Discussion in 'Aqidah/Kalam' started by Surati, Feb 21, 2021.

Draft saved Draft deleted
  1. Surati

    Surati New Member

    السلام علیکم

    Someone forwarded this to me on whatsapp this morning. Any thoughts/responses please?
    Thank you.

    ابھی مفتی منیب الرحمن صاحب کے تازہ فتوی پر کچھ سوچ و بچار کر رہا تھا تو دعوی اجماع پر چنداصولی باتیں ذہن میں آئیں جو سادات اطہار اور علماء ذی احتشام احباب کی نظر ہیں:

    1. افضلیت شیخین پر اجماع کے مدعیین کی سب سے بڑی دلیل غالبا حضرت عبداللہ ابن عمر رح کا قول کہ كنا نخير بين الناس في زمن النبي صلى الله عليه وسلم فنخير أبا بكر ثم عمر بن الخطاب ثم عثمان بن عفان رضي الله عنهم ہے ۔۔۔ کچھ روایات میں ہے فيسمع رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ذلك فلا ينكره ہے

    اس پر سوال یہ ہے کہ اس سے جواز، ندب (استحباب) یا وجوب ثابت ہوتا ہے؟ یعنی اس ترتیب سے افضلیت جائز ہے یا مندوب ہے یا واجب؟ اس کا تعین کس اصول کے تحت کریں گے؟ اور اگر اس سے وجوب مراد ہے تو اسکی دلیل مرجحہ کیا ہے؟ *اگر کوئ دلیل مرجحہ یا قرینہ تعیین نہیں تو تینوں احتمال موجود رہتیے ہیں*۔۔۔تو جس کو چاہو افضل مانو کوئ مضائقہ اور شرعی پکڑ نہیں ہے!

    2. دوسرا سوال یہ ہے کہ اگرچہ ہم اسے سرکار علیہ الصلاۃ والسلام کی طرف اضافت کیوجھ سے حجت مان لیتے ہیں مع الاحتمالات الثلاثہ (جواز ندب اور وجوب) بدون تعیین احدی هن۔۔۔ کیا یہ حجت اجماعی ہے؟ تو اس کا سمپل سا جواب ہے کہ اس سے حجت اجماعی *صرف اہل اجماع، اہل الحل والعقد، کی تصریح سے ثابت ہو گی*، یہاں اس طبقہ کی تصریح تو دور کی بات ہے، اس کے خلاف ان کے اقوال موجود ہیں، سیدہ عائشہ سیدہ فاطمہ (سلام اللہ علیہما) کی قائل ہیں، ابن عباس، ابن مسعود، امام حسن، جابر ابن عبد اللہ، عمار ابن باسر اور بیسیوں صحابہ رض مولاے کائنات کی تفضیل کے قائل ہیں! جب صورت حال یہ تو اجماع کہاں کا ہے؟ اجماع قطعی تو کسی صورت بھی منعقد نہیں ہوتا۔۔۔

    اگر *بر طریق تسلیم اجماع مان بھی لیں* تو زیادہ سے زیادہ اجماع ظنی ہو گا کیونکہ عدم تصریح کیوجہ جماعت اہل اجماع کی طرف اس کا انتساب ظنی ہے نہ کہ قطعی!! جب ظنی ہے تو ان لوگوں نے کس اصول کے تحت اسے قطعیات میں شامل کیا اور یہاں تک کہہ دیا کہ اس کے مقابلہ میں صحیح حدیث نبی کی بھی تاویل کی جاے گی یا اسے رد کیا جاے گا!!

    جس کو بھی اصول سے کچھ شغف ہو گا ان پر ان لوگوں کی بے اصولی اور ہٹ دھرمی واضح ہو گی۔۔۔

    اگرچہ ان کی اس دلیل پر بہت کلام کیا جا سکتا ہے، دعوی اجماع اور قطعیت کے تناظر میں یہ چند باتیں ذہن میں آئیں تو لکھ دیں اگر سوچ میں کہیں سقم ہے تو اصلاح فرما کر مشکور و ماجور ہوں۔۔۔

    خاکپاے اہل بیت فضل محمد قادری سبطِ محدثِ سیالکوٹی
     

Share This Page